نئی دہلی،07؍مئی (ایس او نیوز؍ آئی این ایس انڈیا ) علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو)میں محمد علی جناح کی ایک تصویر لے کر چل رہے تنازعہ کے درمیان مرکزی اقلیتی امور کے وزیر مختار عباس نقوی نے آج کہا کہ اے ایم یو کی انتظامیہ اور طالب علموں کو’بے وجہ کا تنازعہ‘ختم کرنا چاہئے کیونکہ پاکستان کے بانی نہ تو ہندوستان کے مثالی ہیں اور نہ ہی ہندوستانی مسلمانوں کے مثالی ہیں۔نقوی نے کہا کہ اے ایم یو کی انتظامیہ اور طالب علموں سے میں یہی درخواست کروں گا کہ وہ بے وجہ کا تنازعہ ختم کریں کیونکہ جناح نہ تو ملک کے مثالی ہیں اور نہ ہی مسلمانوں کے مثالی ہیں۔انہوں نے کہاکہ اس بات کو یہیں ختم کرنا چاہئے اور یونیورسٹی کے وقار کا احترام کرتے ہوئے آگے بڑھنا چاہیے۔غور طلب ہے کہ اے ایم یو کے یونین ہال میں لگی جناح کی تصویر کو لے کر گزشتہ دنوں علی گڑھ کے بھاجپا ایم پی ستیش گوتم نے وائس چانسلر طارق منصور کو خط لکھا تھا۔اس کے بعد ہی اس تنازعہ کی شروعات ہوئی۔اسی معاملے کو لے کر یوا واہنی کے کچھ کارکنوں نے گزشتہ دو مئی کو احاطے میں گھس کر ہنگامہ اور نعرے بازی کی تھی۔اس ہنگامے کو لے کر پولیس نے دو افراد کو گرفتار کیا ہے۔وہیں نقوی نے کہاکہ مرکزی کابینہ کی طرف سے حال ہی میں منظور ’وزیر اعظم عوامی ترقی پروگرام‘کے تحت ملک بھر میں وقف املاک کی بھی ترقی ہوگی تاکہ مسلم کمیونٹی کے سماجی اور تعلیمی طاقت کو مضبوط بنایا جا سکے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ وقف املاک کے لیزسے متعلق قوانین کا جائزہ لینے کے لئے پانچ رکنی کمیٹی قائم کی گئی ہے تاکہ ان قوانین کو لے کر مزید وضاحت ہو سکے۔